Followers

Sunday, November 19, 2023

حمد اور شکر کی تعریف

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ(1)

 ترجمۂ کنز الایمان

سب خوبیاں اللہ کو جو مالک سارے جہان والوں کا۔

حمد اور شکر کی تعریف:


 تفسیر صراط الجنان

{اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ:سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں۔} یعنی ہر طرح کی حمد اور تعریف کا مستحق اللہ تعالیٰ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کمال کی تمام صفات کا جامع ہے ۔د

 حمد اور شکر کی تعریف:

حمد کا معنی ہے کسی کی اختیاری خوبیوں کی بنا پر اُس کی تعریف کرنا اور شکر کی تعریف یہ ہے کہ کسی کے احسان کے مقابلے میں زبان، دل یا اعضاء سے اُس کی تعظیم کرنا اورہم چونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حمد عام طور پراُس کے احسانات کے پیش نظر کرتے ہیں اس لئے ہماری یہ حمد’’ شکر‘‘ بھی ہوتی ہے ۔


اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرنے کے فضائل:


احادیث میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرنے کے بہت فضائل بیان کئے گئے ہیں ،ان میں سے 3فضائل درج ذیل ہیں:


(1)…حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبیٔ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ بندے کی اس بات سے خوش ہوتاہے کہ وہ کچھ کھائے تو اللہ تعالیٰ کی حمد کرے اور کچھ پئے تو اللہ تعالیٰ کی حمد کرے۔(مسلم، کتاب الذکر والدعاء، باب استحباب حمد اللہ۔۔۔الخ، ص۱۴۶۳، الحدیث: ۸۹(۲۷۳۴))


(2)…حضرت جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’ سب سے افضل ذکر ’’لَآ اِلٰــہَ اِلَّا اللہُ ‘‘ ہے اور سب سے افضل دُعا ’’ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ‘‘ہے۔(ابن ماجہ، کتاب الادب، باب فضل الحامدین، ۴ / ۲۴۸، الحدیث: ۳۸۰۰)


(3)…حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر کوئی نعمت نازل فرماتا ہے اور وہ (نعمت ملنے پر) ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰه‘‘کہتا ہے تو یہ حمد اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس دی گئی نعمت سے زیادہ افضل ہے۔(ابن ماجہ، کتاب الادب، باب فضل الحامدین، ۴ / ۲۵۰، الحدیث: ۳۸۰۵)

حمد سے متعلق شرعی حکم :


             خطبے میں حمد’’ واجب‘‘، کھانے کے بعد ’’مستحب‘‘، چھینک آنے کے بعد ’’سنت‘‘ ،حرام کام کے بعد ’’حرام‘‘ اور بعض صورتوں میں ’’کفر‘‘ہے۔


{لِلّٰهِ:اللہ کے لئے۔}’’اللہ‘‘ اس ذات ِ اعلیٰ کاعظمت والا نام ہے جو تمام کمال والی صفتوں کی جامع ہے اوربعض مفسرین نے اس لفظ کے معنٰی بھی بیان کیے ہیں جیسے ا س کا ایک معنی ہے: ’’عبادت کا مستحق‘‘ دوسرا معنی ہے: ’’وہ ذات جس کی معرفت میں عقلیں حیران ہیں ‘‘ تیسرا معنی ہے: ’’وہ ذات جس کی بارگاہ میں سکون حاصل ہوتاہے‘‘ اور چوتھا معنی ہے: ’’وہ ذات کہ مصیبت کے وقت جس کی پناہ تلاش کی جائے۔‘‘(بیضاوی، الفاتحۃ، ۱ / ۳۲)


{رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ: جو سارے جہان والوں کا مالک ہے۔}لفظ’’رب‘‘ کے کئی معنی ہیں : جیسے سید، مالک، معبود، ثابت، مصلح اور بتدریج مرتبہ کمال تک پہنچانے والا ۔ اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ ہر موجود چیز کو عالَم کہتے ہیں اور اس میں تمام مخلوقات داخل ہیں۔(صاوی، الفاتحۃ، تحت الآیۃ: ۱، ۱ / ۱۶، خازن، الفاتحۃ، تحت الآیۃ: ۱

، ۱ / ۱۷، ملتقطاً)

محمد توقیر رضا منظری 


Ilm Ki Fazilat


Wazu Ke Masail


Allah Ke Wali Ka Waqia


Namaz Ke Masail


History Of Islam


Dini Maalumat


Naat Sharif


Saturday, November 18, 2023

قرآن مجید کی ابتداء بسم اللّٰہ سے کیوں

 بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

           ترجمۂ کنز الایمان

اللہ کے نام سے شروع جو بہت مہربان رحمت والا۔

قرآن کی شروعات بسم اللہ سے کیوں


{ بِسْمِ اللّٰهِ: اللہ کے نام سے شروع ۔} علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں:قرآن مجید کی ابتداء’’ بِسْمِ اللّٰهِ‘‘سے اس لئے کی گئی تاکہ اللہ تعالٰی کے بندے اس کی پیروی کرتے ہوئے ہر اچھے کام کی ابتداء ’’بِسْمِ اللّٰهِ‘‘ سے کریں۔(صاوی،الفاتحۃ، ۱ / ۱۵) اور حدیث پاک میں بھی(اچھے اور)اہم کام کی ابتداء ’’بِسْمِ اللّٰهِ‘‘ سے کرنے کی ترغیب دی گئی ہے،چنانچہ

حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضورپر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا: ’’جس اہم کام کی ابتداء ’’بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ سے نہ کی گئی تو وہ ادھورا رہ جاتا ہے۔(کنز العمال، کتاب الاذکار،   الباب السابع  فی تلاوۃ  القراٰن  وفضائلہ،  الفصل الثانی۔۔۔الخ، ۱ / ۲۷۷،  الجزءالاول، الحدیث:۲۴۸۸)

 لہٰذا تمام مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ ہرنیک اور جائز کام کی ابتداء ’’بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ سے کریں ،اس کی بہت برکت ہے۔[1]

YouTube Channel

{اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ:جو بہت مہربان رحمت والاہے ۔}امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے  ہیں : اللہ تعالٰی نے اپنی ذات کو رحمٰن اور رحیم فرمایا تو یہ اس کی شان سے بعید ہے کہ وہ رحم نہ فرمائے ۔مروی ہے کہ ایک سائل نے بلند دروازے کے پاس کھڑے ہو کر کچھ مانگا تو اسے تھوڑا سا دے دیا گیا،دوسرے دن وہ ایک کلہاڑا لے کر آ یا اور دروازے کو توڑنا شروع کر دیا۔اس سے کہا گیا کہ تو ایسا کیوں کر رہا ہے؟اس نے جواب دیا:تو دروازے کو اپنی عطا کے لائق کر یا اپنی عطا کو دروازے کے لائق بنا۔اے ہمارے اللہ! عَزَّوَجَلَّ،رحمت کے سمندروں کو تیری رحمت سے وہ نسبت ہے جو ایک چھوٹے سے ذرے کو تیرے عرش سے نسبت ہے اور تو نے اپنی کتاب کی ابتداء میں اپنے بندوں پر اپنی رحمت کی صفت بیان کی اس لئے ہمیں اپنی رحمت اور فضل سے محروم نہ رکھنا۔(تفسیرکبیر، الباب الحادی عشرفی بعض النکت المستخرجۃ۔۔۔الخ، ۱ / ۱۵۳)

 ’’بِسْمِ اللّٰهِ‘‘سے متعلق چند شرعی مسائل:

          علماء کرام نے ’’ بِسْمِ اللّٰهِ‘‘ سے متعلق بہت سے شرعی مسائل بیان کئے ہیں ، ان میں سے چند درج ذیل ہیں :

 (1)… جو ’’ بِسْمِ اللّٰهِ‘‘ہر سورت کے شروع میں لکھی ہوئی ہے، یہ پوری آیت ہے اور جو’’سورۂ نمل‘‘ کی آیت نمبر 30 میں ہے وہ اُس آیت کا ایک حصہ ہے۔

(2)… ’’بِسْمِ اللّٰهِ‘‘ ہر سورت کے شروع کی آیت نہیں ہے بلکہ پورے قرآن کی ایک آیت ہے جسے ہر سورت کے شروع میں لکھ دیا گیا تا کہ دو سورتوں کے درمیان فاصلہ ہو جائے ،اسی لئے سورت کے اوپر امتیازی شان میں ’’بِسْمِ اللّٰهِ‘‘ لکھی جاتی ہے آیات کی طرح ملا کر نہیں لکھتے اور امام جہری نمازوں میں ’’بِسْمِ اللّٰهِ‘‘ آواز سے نہیں پڑھتا، نیز حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام جو پہلی وحی لائے اس میں ’’ بِسْمِ اللّٰهِ‘‘ نہ تھی۔

(3)…تراویح پڑھانے والے کو چاہیے کہ وہ کسی ایک سورت کے شروع میں ’’بِسْمِ اللّٰهِ‘‘ آواز سے پڑھے تاکہ ایک آیت رہ نہ جائے۔

(4)… تلاوت شروع کرنے سے پہلے ’’اَعُوْذُ بِاللہ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ‘‘ پڑھنا سنت ہے،لیکن اگر شاگرد استادسے قرآن مجید پڑھ رہا ہو تو اس کے لیے سنت نہیں۔

(5)…سورت کی ابتداء میں ’’ بِسْمِ اللّٰهِ‘‘ پڑھنا سنت ہے ورنہ مستحب ہے۔

(6)…اگر ’’سورۂ توبہ‘‘ سے تلاوت شروع کی جائے تو’’اَعُوْذُ بِاللہِ‘‘ اور’’بِسْمِ اللّٰهِ‘‘دونوں کو پڑھا جائے اور اگر تلاوت کے دوران سورۂ توبہ آجائے تو ’’بِسْمِ اللّٰهِ‘‘پڑھنے کی حاجت نہیں۔


محمد توقیر رضا منظری 

Ilm Ki Fazilat

Allah Ke Wali Ka Waqia

Namaz Ke Masail

History Of Islam

Dini Maalumat

Naat Sharif

 Bismillah# , Bismillah Ki Fazilat, 



Thursday, November 16, 2023

مسجد اقصیٰ & ہمارے نبی سرکار دوعالم ﷺ

سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِیَهٗ مِنْ اٰیٰتِنَاؕ-اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ(1)

Masjid E Aqsa
Masjid Al Aqsa 



 ترجمۂ کنز العرفان


پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے خاص بندے کو رات کے کچھ حصے میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک سیر کرائی جس کے اردگرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں تاکہ ہم اسے اپنی عظیم نشانیاں دکھائیں، بیشک وہی سننے والا، دیکھنے والاہے۔


 تفسیر صراط الجنان


{سُبْحٰنَ: پاک ہے۔} اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب و نقص سے پاک ہے۔ حضرت طلحہ بن عبیداللہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : میں نے نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ’’سُبْحَانَ اللہ ‘‘ کی تفسیر کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ہر بری چیز سے اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرنا۔( مستدرک، کتاب الدعاء والتکبیر والتہلیل والتسبیح والذکر، تفسیر سبحان اللہ، ۲ / ۱۷۷، الحدیث: ۱۸۹۱)


سُبْحَانَ اللہ  کے3 فضائل:


اس آیت کی ابتدا میں لفظ ’’ سُبْحٰنَ‘‘ کا ذکر ہوا ،ا س مناسبت سے ’’سُبْحَانَ اللہ‘‘کے 3فضائل درج ذیل ہیں :


(1)…حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جس نے ایک دن میں سو مرتبہ ’’سُبْحَانَ اللہ وَبِحَمْدِہٖ‘‘ پڑھا ،تو اس کے گناہ مٹا دئیے جائیں گے اگرچہ اس کے گناہ سمندر کی جھاگ کی مثل ہوں۔(بخاری، کتاب الدعوات، باب فضل التسبیح، ۴ / ۲۱۹، الحدیث: ۶۴۰۵)


(2)…حضرت جابر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ جس نے ’’سُبْحَانَ اللہ الْعَظِیْمِ وَبِحَمْدِہٖ‘‘ کہا تو اس کے لئے جنت میں ایک درخت اُگا دیا جاتا ہے۔( ترمذی، کتاب الدعوات، ۵۹-باب، ۵ / ۲۸۶، الحدیث: ۳۴۷۵)


(3)…حضرت ابوذر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : میں نے عرض کی: یا رسولَاللہ!صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، کون سا کلام اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہے؟ ارشاد فرمایا ’’وہ کلام جسے اللہتعالیٰ نے فرشتوں کے لئے پسند فرما ہے (اور وہ یہ ہے) ’’سُبْحَانَ رَبِّیْ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ رَبِّیْ وَبِحَمْدِہٖ‘‘(مستدرک، کتاب الدعاء والتکبیر والتہلیل۔۔۔الخ، احبّ الکلام الی اللہ سبحان ربّی وبحمدہ،۲ / ۱۷۶، الحدیث:۱۸۸۹)


اسمِ الٰہی کی تجلی کا اثر:


یاد رہے کہ ہر اسمِ الٰہی کی تجلی عامل پر پڑتی ہے یعنی جو جس اسمِ الٰہی کا وظیفہ کرتا ہے اُس میں اُسی کا اثر پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے چنانچہ جو ’’یَا سُبْحَانُ‘‘کا وظیفہ کرے تواللہ تعالیٰ اسے گناہوں سے پاک فرمائے گا ۔ جو’’یَا غَنِیُّ ‘‘ کا وظیفہ پڑھے تو وہ خود غنی اور مالدار ہوجائے گا، اسی طرح جو یَاعَفُوُّ ، یَا حَلِیْمُ کا وظیفہ کرے تو اس میں یہی صفات پیدا ہونا شروع ہوجائیں گی۔ اسی مناسبت سے یہاں ایک حکایت ملاحظہ ہو،چنانچہ حضرت ابو بکر بن زیَّات رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے منقول ہے کہ ایک شخص حضرت معروف کرخی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی :حضور! آج صبح ہمارے ہاں بچے کی ولادت ہوئی ہے اور میں سب سے پہلے آپ رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے پاس یہ خبر لے کر آیا ہوں تاکہ آپ کی برکت سے ہمارے گھرمیں خیر نازل ہو ۔ حضرت معروف کرخی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا ’’اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے حفظ واَمان میں رکھے ۔یہاں بیٹھ جاؤ اورسو مرتبہ یہ الفاظ کہو ’’مَا شَاءَ اللہ کَانَ‘‘یعنی اللہتعالیٰ نے جو چاہا وہی ہوا۔ اس نے سو مرتبہ یہ الفاظ دہرا لئے توآپ رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا’’ دوبارہ یہی الفاظ کہو ۔ اس نے سو مرتبہ پھر وہی الفاظ دہرائے۔ آپ نے فرمایا ’’پھر وہی الفاظ دہراؤ۔ اس طرح پانچ مرتبہ اسے (وہ الفاظ دہرانے کا ) حکم دیا ۔ اتنے میں ایک وزیر کی والدہ کاخادم ایک خط اور تھیلی لے کر حاضر ہوا اور کہا:’ ’اے معروف کرخی ! رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ،اُمِّ جعفر آپ کو سلام کہتی ہے ، اس نے یہ تھیلی آپ کی خدمت میں بھجوائی ہے اورکہا ہے کہ آپ غُرباء و مساکین میں یہ رقم تقسیم فرما دیں ۔ یہ سن کر آپ رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے قاصد سے فرمایا ’’ رقم کی تھیلی اس شخص کو دے دو، اس کے ہاں بچے کی ولادت ہوئی ہے۔ قاصد نے کہا: یہ 500 درہم ہیں ، کیا سب اسے دے دوں ؟آپ نے فرمایا ’’ہاں !ساری رقم اسے دے دو، اس نے پانچ سو مرتبہ ’’مَا شَاءَ اللہ کَانَ‘‘ کہا تھا۔ پھر اس شخص کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا ’’ یہ پانچ سو درہم تمہیں مبارک ہوں ، اگر اس سے زیادہ مرتبہ کہتے تو ہم بھی اتنی ہی مقدار مزید بڑھا دیتے ۔( جاؤ !یہ رقم اپنے اہل وعیال پر خرچ کرو)۔( عیون الحکایات، الحکایۃ التاسعۃ بعد الثلاث مائۃ، ص۲۷۷)


{سُبْحٰنَ الَّذِیْ:پاک ہے وہ ذات۔} اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ ہر کمزوری، عیب اور نقص سے خداوند ِ قدوس کی عظیم ذات پاک ہے جس نے اپنے خاص بندے یعنی مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو شبِ معراج رات کے کچھ حصے میں مسجد ِحرام سے مسجد ِاقصیٰ تک سیر کرائی حالانکہ مسجد ِ اقصیٰ مکۂ مکرمہ سے تیس دن سے زیادہ کی مسافت پر ہے، وہ مسجد ِاقصیٰ جس کے اردگرد ہم نے دینی و دُنْیَوی برکتیں رکھی ہیں اور سیر کرانے کی حکمت یہ تھی کہ اللہعَزَّوَجَلَّ اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اپنی عظمت اور قدرت کی عظیم نشانیاں دکھانا چاہتا تھا۔ روایت ہے کہ جب سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ شب ِمعراج درجاتِ عالیہ اور مَراتبِ رفیعہ پر فائز ہوئے تواللہعَزَّوَجَلَّ نے خطاب فرمایا ، اے محمد! (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) یہ فضیلت و شرف میں نے تمہیں کیوں عطا فرمایا ؟ حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے عرض کی :اس لئے کہ تو نے مجھے عَبْدِیَّت کے ساتھ اپنی طرف منسوب فرمایا۔ اس پر یہ آیتِ مبارکہ نازل ہوئی۔( خازن، الاسراء، تحت الآیۃ: ۱، ۳ / ۱۵۳-۱۵۴، ملخصاً)


{اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ: اپنے بندے کو سیر کرائی۔} آیت کے اس حصے میں نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے معراج شریف کا تذکرہ ہے ۔ معراج شریف نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ایک جلیل معجزہ اور اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے اور اس سے حضورپُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا وہ کمالِ قرب ظاہر ہوتا ہے جو مخلوقِ الٰہی میں آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سوا کسی کو مُیَسَّر نہیں ۔


معراج شریف سے متعلق 3باتیں :


یہاں معراج شریف سے متعلق تین باتیں قابلِ ذکر ہیں :


(1)…نبوت کے بارہویں سال سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ معراج سے نوازے گئے ، البتہ مہینے کے بارے میں اختلاف ہے مگر زیادہ مشہور یہ ہے کہ ستائیسویں رجب کو معراج ہوئی۔


(2)… مکۂ مکرمہ سے حضور پُرنور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا بیتُ المقدس تک رات کے چھوٹے سے حصہ میں تشریف لے جانا نصِ قرآنی سے ثابت ہے، اس کا منکر کافر ہے اور آسمانوں کی سیر اور مَنازلِ قرب میں پہنچنا اَحادیث ِصحیحہ مُعتمدہ مشہورہ سے ثابت ہے جو حدِ تَواتُر کے قریب پہنچ گئی ہیں ، اس کا منکر گمراہ ہے۔


(3)…معراج شریف بحالت ِبیداری جسم و روح دونوں کے ساتھ واقع ہوئی، یہی جمہور اہلِ اسلام کا عقیدہ ہے اور اصحابِ رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی کثیر جماعتیں اور حضور اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے جلیل القدر صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ اسی کے معتقد ہیں ، آیات و اَحادیث سے بھی یہی سمجھ آتا ہے اور جہاں تک بیچارے فلسفیوں کا تعلق ہے جو علّت و مَعلول کے چکر میں پھنس کر عجیب و غریب شکوک و شُبہات کا شکار ہیں تو ان کے فاسد اَوہام مَحض باطل ہیں ، قدرتِ الٰہی کے معتقد کے سامنے وہ تمام شبہات محض بے حقیقت ہیں ۔( تفسیرات احمدیہ، بنی اسرائیل، تحت الآیۃ: ۱، ص۵۰۵، روح البیان، الاسراء، تحت الآیۃ: ۱، ۵ / ۱۰۴، خزائن العرفان، بنی اسرا ئیل، تحت الآیۃ:۱،ص۵۲۵، ملتقطاً)


سفر ِمعراج کا خلاصہ:


معراج شریف کے بارے میں سینکڑوں اَحادیث ہیں جن کا ایک مختصر خلاصہ یہاں پیش کیا جاتا ہے۔ چنانچہ معراج کی رات حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام بارگاہِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں حاضر ہوئے ، آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو معراج کی خوشخبری سنائی اورآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا مقدس سینہ کھول کر اسے آبِ زمزم سے دھویا، پھر اسے حکمت و ایمان سے بھر دیا۔ اس کے بعدتاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں براق پیش کی اور انتہائی اِکرام اور احترام کے ساتھ اس پر سوار کرکے مسجد ِاقصیٰ کی طرف لے گئے۔ بیتُ المقدس میں سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے تمام اَنبیاء و مُرسَلین عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی امامت فرمائی ۔پھر وہاں سے آسمانوں کی سیر کی طرف متوجہ ہوئے۔ حضرت جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام نے باری باری تمام آسمانوں کے دروازے کھلوائے، پہلے آسمان پر حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، دوسرے آسمان پر حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، تیسرے آسمان پر حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، چوتھے آسمان پر حضرت ادریس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، پانچویں آسمان پر حضرت ہارون عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، چھٹے آسمان پر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ساتویں آسمان پر حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حضور ِاقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی زیارت و ملاقات سے مشرف ہوئے ، انہوں نے حضور انور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عزت و تکریم کی اور تشریف آوری کی مبارک بادیں دیں ،حتّٰی کہ نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ایک آسمان سے دوسرے آسمان کی طرف سیر فرماتے اور وہاں کے عجائبات دیکھتے ہوئے تمام مُقَرَّبین کی آخری منزل سِدرۃُ المنتہیٰ تک پہنچے۔ اس جگہ سے آگے بڑھنے کی چونکہ کسی مقرب فرشتے کو بھی مجال نہیں ہے ا س لئے حضرت جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام آگے ساتھ جانے سے معذرت کرکے وہیں رہ گئے ، پھر مقامِ قربِ خاص میں حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ترقیاں فرمائیں اور اس قربِ اعلیٰ میں پہنچے کہ جس کے تَصَوُّر تک مخلوق کے اَفکار و خیالات بھی پرواز سے عاجز ہیں ۔ وہاں رسولِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر خاص رحمت و کرم ہوا اور آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ انعاماتِ الٰہیہ اور مخصوص نعمتوں سے سرفراز فرمائے گئے، زمین و آسمان کی بادشاہت اور ان سے افضل و برتر علوم پائے ۔ اُمت کے لئے نمازیں فرض ہوئیں ، نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بعض گناہگاروں کی شفاعت فرمائی، جنت و دوزخ کی سیر کی اور پھر دنیا میں اپنی جگہ واپس تشریف لے آئے۔ جب سَرورِ عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس واقعے کی خبریں دیں تو کفار نے اس پر بہت واویلا کیا اور حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے بیتُ المقدس کی عمارت کا حال اور ملک ِشام جانے والے قافلوں کی کَیفِیَّتیں دریافت کرنے لگ گئے ۔حضور انور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے انہیں سب کچھ بتا دیا اور قافلوں کے جو اَحوال سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بتائے تھے ، قافلوں کے آنے پر اُن سب کی تصدیق ہوئی۔


معراجِ حبیب اور معراجِ کلیم میں فرق:


اللہتعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو جو معراج عطا فرمائی اور اپنے کلیم حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جو معراج عطا فرمائی، یہاں اِن میں فرق ملاحظہ ہو، چنانچہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :


کلیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی معراج درخت ِدنیا پر ہوئی (چنانچہ ارشاد فرمایا)


’’نُوْدِیَ مِنْ شَاطِئِ الْوَادِ الْاَیْمَنِ فِی الْبُقْعَةِ الْمُبٰرَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ‘‘(قصص:۳۰)


برکت والی جگہ میں میدان کے دائیں کنارے سے ایک درخت سے انہیں ندا کی گئی۔(ت)


حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی معراج سِدرۃُ المنتہیٰ وفردوسِ اعلیٰ تک بیان فرمائی(چنانچہ ارشاد فرمایا)


’’عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰى(۱۴)عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَاْوٰى‘‘(النجم:۱۴،۱۵)


سدرۃ المنتہیٰ کے پاس۔اس کے پاس جنت الماویٰ ہے۔(ت)( فتاوی رضویہ، ۳۰ / ۱۸۲)


مزید فرماتے ہیں :کلیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالتَّسْلِیْم پر حجاب ِنار سے تجلی ہوئی (چنانچہ ارشاد فرمایا)


’’فَلَمَّا جَآءَهَا نُوْدِیَ اَنْۢ بُوْرِكَ مَنْ فِی النَّارِ وَ مَنْ حَوْلَهَا‘‘(نمل:۸)


پھر موسیٰ آگ کے پاس آئے تو (انہیں ) ندا کی گئی کہ اُس (موسیٰ) کو جو اس آگ کی جلوہ گاہ میں ہے اور جو اس (آگ) کے آس پاس(فرشتے)ہیں انہیں برکت دی گئی۔(ت)


حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ پر جلوۂ نور سے تجلی ہوئی اوروہ بھی غایت تفخیم وتعظیم کیلئے بَالفاظِ اِبہام بیان فرمائی گئی (کہ)


’’ اِذْ یَغْشَى السِّدْرَةَ مَا یَغْشٰى‘‘ (نجم:۱۶) جب چھا گیا سدرہ پر جو کچھ چھایا۔( فتاوی رضویہ، ۳۰ / ۱۸۲-۱۸۳)


(اللہتعالیٰ نے) کلیمُ اللہ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالتَّسْلِیْم سے طور پر کلام کیا اور اسے سب پر ظاہر فرما دیا (چنانچہ ارشاد فرمایا)


’’وَ اَنَا اخْتَرْتُكَ فَاسْتَمِـعْ لِمَا یُوْحٰى(۱۳)اِنَّنِیْۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدْنِیْۙ-وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِیْ‘‘(طٰہٰ:۱۳،۱۴) الٰی اٰخر الاٰیات۔(آیات کے آخر تک)


اور میں نے تجھے پسند کیا تواب اسے غور سے سن جو وحی کی جاتی ہے۔بیشک میں ہی اللہہوں ،میرے سوا کوئی معبود نہیں تو میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم رکھ۔(ت)


حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سے فوق السَّمٰوٰت مُکالَمہ فرمایا اور سب سے چھپایا(چنانچہ ارشاد فرمایا)


’’فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰى‘‘ (النجم:۱۰)


پھر اس نے اپنے بندے کو وحی فرمائی جو اس نے وحی فرمائی۔(ت)( فتاوی رضویہ، ۳۰ / ۱۷۹-۱۸۰)


{اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا:مسجد ِاقصیٰ تک ۔} سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو مسجد ِاقصیٰ تک سیر کرانے میں ایک حکمت یہ ہے کہ تمام اَنبیاء و مُرسَلین عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا شرف اور فضیلت ظاہر ہو جائے کیونکہ رسول اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ان کی جگہ میں انہیں امام بن کر نماز پڑھائی اور جسے گھر والوں پر مُقَدّم کیا جائے اس کی شان یہ ہوتی ہے کہ و ہ سلطان ہوتا ہے کیونکہ سلطان کو اپنے علاوہ لوگوں پر مُطْلَقاً تَقَدُّم حاصل ہے۔ دوسری حکمت یہ ہے کہ حشر کے دن مخلوق اسی سرزمین میں جمع ہو گی اس لئے یہ جگہ تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے قدموں کی برکات سے نہال ہو جائے تاکہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی امت پر محشر میں وُقوف آسان ہو۔( صاوی، الاسراء، تحت الآیۃ: ۱، ۳ / ۱۱۰۶) اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ پہلی حکمت کے حوالے سے کیا خوب فرماتے ہیں :


نمازِ اقصیٰ میں تھا یہی سرعیاں ہوں معنی ٔاول آخر کہ دست بستہ ہیں پیچھے حاضر جو سلطنت آگے کر گئے تھے


{اَلَّذِیْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ: جس کے ارد گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں ۔} آیت کے اس حصے میں اللہ تعالیٰ نے مسجد ِاقصیٰ کی شان بیان فرمائی کہ اس کے ارد گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں دینی بھی اور دنیوی بھی ۔ دینی برکتیں یہ کہ وہ سرزمینِ پاک وحی کے اترنے کی جگہ اور انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی عبادت گاہ اور ان کی قیام گاہ بنی اور ان کی عبادت کا قبلہ تھی۔ دنیوی برکتیں یہ کہ وہاں قرب و جوار میں نہروں اور درختوں کی کثرت تھی جس سے وہ زمین سرسبز و شاداب ہے اور میووں اور پھلوں کی کثرت سے بہترین عیش و راحت کا مقام ہے ۔( مدارک، الاسراء، تحت الآیۃ: ۱، ص۶۱۵، خازن، الاسراء، تحت الآیۃ: ۱، ۳ / ۱۵۴، خزائن العرفان، بنی اسرائیل، تحت الآیۃ: ۱، ص۵۲۵، ملتقطاً)


{لِنُرِیَهٗ مِنْ اٰیٰتِنَا: تاکہ ہم اسے اپنی عظیم نشانیاں دکھائیں ۔}آیت کے اس حصے میں معراج شریف کی ایک حکمت بیان کی گئی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو رات کے کچھ حصے میں مسجد ِ حرام سے مسجد ِاقصیٰ تک سیر کرائی تاکہ ہم انہیں اپنی قدرت کے عجائبات دکھائیں ۔علامہ علی بن محمد خازن رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :بے شک اس رات نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو دیکھا، انہیں نماز پڑھائی اور بڑی عظیم نشانیاں دیکھیں ۔ مزید فرماتے ہیں : اس آیت میں ’’مِنْ اٰیٰتِنَا‘‘ کے الفاظ ہیں ،جن کا مطلب یہ ہے کہ کچھ نشانیاں دکھائیں جبکہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ’’وَ كَذٰلِكَ نُرِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ‘‘اور اسی طرح ہم ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کی عظیم سلطنت دکھاتے ہیں ۔( انعام:۷۵) اس آیت کے ظاہر سے ایسا لگتا ہے کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو  سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر فضیلت حاصل ہے ، حالانکہ ایسا نہیں اور نہ ہی کوئی ان کی نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پراِس اعتبار سے فضیلت کا قائل ہے کیونکہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہت بھی اللہ تعالیٰ کی (تمام نہیں بلکہ)بعض ہی نشانیاں ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کی(دوسری) نشانیاں اِس(آسمان و زمین کی بادشاہت) سے کہیں زیادہ اور بڑھ کرہیں اور (اسی اعتبار سے ہم کہتے ہیں کہ)اللہ تعالیٰ نے معراج کی رات اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو جو نشانیاں و عجائبات دکھائے وہ زمین و آسمان کی بادشاہت سے بڑھ کر ہیں ، اس بیان سے ظاہر ہو گیا کہ حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر  فضیلت حاصل ہے(خازن، الاسراء، تحت الآیۃ: ۱، ۳ / ۱۵۴ملخصاً)۔([1])

#mtrmanzaei #masjid-al-aqsa #palestine 

Saturday, February 4, 2023

سیرت حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ

  :تاریخ ولادت باسعادت ومقام ولادت

 امام معرفت یوسف جمال، صادق القال حضرت امام جعفر صادق رحمہ اللہ تعالی علیہ کی ولادت با سعادت ۱۸ ربیع الاول ۸٢ ھ میں مدینہ منورہ میں ہوئی۔

امام جعفر صادق     

والد ماجد کی طرف سے شجرہ نسب

   آپ کا شجرہ نسب یوں ہے: امام جعفر صادق بن محمد باقر بن امام زین العابدین بن سیدالشہداء امام حسین بن حضرت علی مرتضی رضی اللہ تعالی عنہم (تاریخ مشاںٔخ قادریہ رضویہ، ص ٨٦)


والدہ ماجدہ کی طرف سے شجرہ نسب  

   آپ رضی اللہ تعالی عنہ امام زین العابدین رضی اللہ تعالی عنہ کے پوتے اور حضرت امام محمد باقر رضی اللہ تعالی عنہ کے صاحبزادے ہیں، آپ کی والدہ ماجدہ ام فروہ، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پوتے حضرت قاسم رضی اللہ تعالٰی عنہ کی صاحبزادی اور ام فروہ کی ماں حضرت اسماء حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے صاحبزادے حضرت عبد الرحمن رضی اللہ تعالی عنہ کی بیٹی ہیں۔ 


تاریخ مشائخ قادریہ رضویہ ، ص ۸٦

Click here to islamic shorts 

تعلیم و تربیت 


آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ تبع تابعین، اہل بیت سادات کرام، جلیل القدر ائمہ طریقت میں سے ہیں، آپ کی تعلیم و تربیت اپنے جدامجد امام زین العابدین اور والد ماجد امام باقر رحمہ اللہ تعالی علیہما کے زیر سایہ ہوئی، آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ شجر نبوت کا ثمر شیریں ہیں، فقہائے مدینہ میں آپ کا شمار ہے، آپ اشارات میں کامل، علوم میں عدیم النظیر ہیں، آپ رحمہ اللہ تعالی علیہ کی فضیلت سب پر ثابت و عیاں ہے۔

Click here to Dini Maalumat 

علمی مہارت 


آپ رحمہ اللہ تعالٰی علیہ لطائف تفسیر اور اسرار تنزیل میں بے نظیر تھے، حافظ حدیث اور ماہر فقہ تھے، الغرض آپ تمام علوم و ار شارات میں کامل اور مشائخ کے پیشرو اور مقتدائے مطلق تھے، آپ اخلاق حسنہ اور تفسیر قرآن بلکہ جملہ علوم میں عدیم النظیر تھے۔ (تاریخ مشاںٔخ قادریہ رضوی، ص ۸٦


دینی خدمات 


آپ رحمتہ اللہ تعالی علیہ مقتدائے امت ہیں، شش جہات عالم میں آپ کی خدمات کا چرچا ہے، مشرق تا مغرب آپ کے کمالات مشہور ہیں ، تا حیات خلق خدا کو مستفیض فرمایا، آپ معرفت و حقیقت علم و حکمت کے بحر ذخار،  لطائف میں بے نظیر ، نکات میں بے مثال تھے، آپ کے اقوال مینارۂ ہدایت ہیں، آپ کے کلمات و طیبات پند و موعظت کا دفتر ہیں، ایک مرتبہ حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ تعالی علیہ نے عرض کیا مجھے کچھ نصیحت فرمائیے ! فرمایا: اے سفیان ! فاجر سے صحبت مت رکھا تجھ پر فجور غالب آئے گا، جو شخص ہر آدمی سے صحبت رکھتا ہے وہ سلامت نہیں رہتا۔


علماء اسلام نے آپ کی بارگاہ میں حاضری دی، ائمہ وقت نے آپ سے فیض پایا آپ کے مشہور تلامذہ : 


[1]: امام الفقه امام اعظم 

[2]: امام مالک

[3]: سفیان ثوری

[4]: سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ تعالی علیہم


وفات و مدفن 


آپ رحمتہ اللہ تعالٰی علیہ نے ۱۵ رجب المرجب ۱٤۹[149]ھ کو وصال فرمایا، آپ کا مزار مبارک جنت البقیع میں زیارت گاہ خلائق ہے۔ 

(ماہنامہ نور اسلام، جولائی ۲۰۱۱، ص ۲۵ تذکرہ مشائخ قادریه رضویہ برکاتیہ ، ص ۸۷ ، مرآۃ الاسرار، ص ۲۰۹ تذکرۃ الاولیاء  ۱۰ متریم ، ص، ١


Please Support This YouTube  Facebook  Instagram  Telegram  Twitter website 


#imamjafar #sirat #imamejafarsadiq #dinimalumat #islamic 

Monday, January 30, 2023

ہندوستان کو خواجہ غریب نواز کی ضرورت کیوں تھی ؟

https://youtube.com/@mtrmanzari


 ہندوستان دنیا کا وہ قدیم اسلامی و تاریخی ملک ہے کہ

 بجز مکہ مکرمہ و مدینہ طیبہ کے کوئی دوسرا ملک شرافت اور بزرگی کے لحاظ سے اس کا ہم پلہ نہیں۔ یہی دنیا کا وہ پہلا ملک ہے جہاں ابو بشر حضرت آدم علیہ السلام جنت سے نازل ہوئے۔ اولاد پیدا ہوئی مسلسل بڑھی اور رفتہ رفتہ دنیا میں پھیلی ۔ حضرت آدم علیہ السلام مسلمان تھے۔ خدا کے سچے نبی تھے۔ جبرئیل علیہ السلام نے کوہ سراندیپ پر اذان دی۔ ہندوستان کے بلند پہاڑ کی چوٹی سے توحید و رسالت کی صدا بلند ہوئی۔

ہندوستان کو خواجہ غریب نواز کی ضرورت کیوں تھی ؟

حضرت آدم علیہ السلام کے دولڑکے کے قابل وہابیل تھے۔ قابیل نے ہابیل کو قتل کیا دنیا میں معصیت کی بنیاد ڈالی اور حضرت آدم علیہ السلام کے انتقال کے بعد اسلام ترک کر کے کفر اختیار کیا۔ اسی زمانے سے اولاد آدم میں دو مذہب کفر و اسلام پیدا ہو گئے جو آج تک بلکہ تا قیامت باقی اور موجود رہیں گے۔

Dini Maalumat Sunne ke liye Click Kren

شیطان چونکہ عہد کر چکا تھا کہ اولاد آدم کو گمراہ کئے بغیر چین سے نہ بیٹھوں گا۔ یہ موقع اس کیلئے مناسب تھا لوگوں کو بت پرستی، ستارہ پرستی آتش پرستی میں مبتلا کر دیا۔ اولاد آدم مختلف گروہوں میں تقسیم ہو گئی۔ کچھ لوگ اپنے باپ آدم علیہ السلام کے مذہب پر قائم رہے کچھ بت پرست ہو گئے۔ کچھ لوگوں نے مظاہر پرستی شروع کر دی۔ ان مختلف جماعتوں کے معتقدات میں چونکہ بنیادی اختلاف تھے اس لئے ارباب مذاہب میں عداوت کی بنیاد پڑگئی۔


اس حالت کو دیکھتے ہوئے حق تعالیٰ نے گمراہ لوگوں کی ہدایت کیلئے حسب ضرورت انبیاء کرام بھیجنے شروع کئے جنہوں نے اپنی قوم کو دین حق کی تبلیغ کی اور شیطان کی راہ پر چلنے سے روکا مگر دنیا کے ابتدائی دور میں اسلام اور کفر کی دو راہیں پیدا ہو گئی تھی۔ وہ باقی رہیں ہندوستان میں بھی نبی آئے ہوں گے۔ وحی آسمانی نے چونکہ ہمیں ان کے نام اور حالات نہیں بتائے اس لئے یقین و اذعان کے ساتھ ہم کسی بزرگ کا نام نہیں لے سکتے کہ وہ اس ملک کے پیغمبر و اوتار تھے۔ بہر حال جو بھی ہوں وہ ہماری نظر میں معزز و محترم ہیں۔ ان کی نبوت پر ہمارا ایمان ہے ظاہر ہے کہ اس ملک میں جو نبی آیا ہوگا۔ اس نے اہالیان ہندو دین حق کی تعلیم سیامنسیا ہو گئی۔ کوئی جاننے والا نہ رہا کہ اس ملک میں جو نبی آیا تھا اس کی تعلیم کیا تھی اور وہ کس زمانے میں آیا تھا۔

Ilm ki Fazilat Sunne ke liye Click Kren 

 بعثت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بیشتر دنیا میں گمراہی کی گھٹا ٹوپ تاریکی چھائی ہوئی تھی۔ فاران کی چوٹیوں سے جب آفتاب نبوت طلوع ہوا مرکز کفر و شرک سے گمراہی کی تاریکی چھٹ گئی۔ عرب کا ذرہ ذرہ نبوت سے تاباں اور درخشاں ہو گیا۔ حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم ختم الرسل اور خاتم الانبیاء تھے۔ آپ دنیا کے سب سے آخری نبی اور رسول تھے۔ پیغمبر آپ کی ذات پر ختم ہو چکی تھی۔ آپ کے بعد آپ کے جانشین خلفائے راشدین اور ان کے بعد صلحائے امر قرار پائے ۔ ان اکابرین ملت نے اپنا فریضہ منصبی پوری ذمہ داری اور خوش اسلوبی کے ساتھ ادا کیا۔ پہلی ہی صدی ہجری میں اسلام کی روشنی عرب سے نکل کر اقصائے عالم کو منور کرنے لگی۔ دور افتادہ ممالک بھی اسلام کی روشنی سے جگمگ جگمگ کرنے لگے۔ عہد صحابہ و تابعین میں اسلامی فتوحات سیل رواں کی طرح بڑھیں۔ روم اور فارس کی عظیم طاقتوں کے مغلوب ہو جانے کے بعد کسی طاقت کی مجال تھی کہ اسلام سے ٹکر لیتی جس نے بھی ٹکر لینے کی کوشش کی خود ہی پاش پاش ہوگی۔ مسلمان مختلف ممالک دیار و امصار میں پھیل گئے۔ اس زمانے کے مسلمان اسلام کی جیتی جاگتی تصویر تھے۔ ان کے اخلاق و اعمال سے متاثر ہو کر دنیا کی قومیں مسلمان ہو گئیں اور وہ وقت آ گیا کہ اسلام دنیا کا سب سے بڑا مذ ہب کہلانے لگا اور مسلمانوں کی حکومت وسیاست کے آگے دنیا کو سر خم کرنا پڑا۔

  ہندوستان کے ساحلی مقامات پر مسلمان پہلی صدی ہجری میں آباد ہو گئے تھے۔ اس زمانے کے راجہ موجودہ زمانے کے لوگوں کی طرح کج بحث اور ہٹ دھرم نہ تھے۔ انہوں نے اسلام کی حقانیت کے آگے سر خم کر دیا۔ رفتہ رفتہ ساحلی مقامات پر مسلمانوں کی نو آبادیاں قائم ہو گئیں۔ ہندوستان چونکہ بہت بڑا ملک تھا۔


اس لئے یہاں کے باشندوں کے دلوں میں اسلام کے گھر کرنے میں دیر لگی۔ اس زمانے میں ذرائع آمد و رفت محدود اور تنگ تھے۔ سلطان محمود غزنوی کے حملہ نے ہندوستان کی تاریخ میں ایک نیا باب کھول دیا تھا۔ مسلمانوں کے خلاف تعصب اور نفرت کا دریا تیزی سے بہنے لگا۔ شیطانی جیت کیلئے دعوت حق پیغام موت تھی۔ ہندوستان کی متحدہ طاقت اس کے مقابلے کیلئے سامنے آئی۔ پے در پے کئی حملوں میں گو کامیابی نہ ہوئی لیکن چونکہ حق حق ہے اور باطل باطل باطل حق کے مقابلہ میں قدم جما کر نہ ڈٹ سکا۔ حق کو فتح ہوئی۔ باطل کا مغرور سرحق پرستوں کے قدموں میں آکر رہا۔ سلطان محمود غزنوی کے پہلے حملہ کے بعد مسلمانوں سے انتہائی نفرت اور مخالفت کا یہ عالم تھا کہ اس ملک کا کوئی باشندہ کسی مسلمان کی صورت دیکھنا گوارا نہ کرتا تھا۔ فوراً موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا تھا۔ اجمیر شریف میں اگر کوئی بھولا پچھڑا مسلمان چلا آتا تو اس کی اس مقام پر گردن مار دی جاتی تھی۔ جہاں اب اڑھائی دن کا جھونپر ا موجود ہے۔ 

 


قدرت چونکہ اپنے بندوں پر نہایت شفیق اور رحم ہے۔ اس ملک کی ہدایت کے لئے دربار نبوت سے خواجہ خواجگان حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمتہ اللہ علیہ کا انتخاب عمل میں آیا۔ حضرت خواجہ غریب نواز اس ملک میں تشریف لائے اور اس شان سے تشریف لائے کہ ان کے پاس فوج تھی نہ آلات حرب۔ اجمیر شریف کو اپنی راجدھانی قرار دیا اور بصد عز و شکوہ تمام ملک پر روحانی فرمانروائی کرنے لگے۔ حضرت خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ دنیاوی بادشاہ نہ تھے۔ روحانی فرمانروا تھے خدا کی غیبی طاقتیں ان کی پشت پر تھیں۔ اجمیر کا راجہ پرتھوی راج حضرت خواجہ رحمتہ اللہ علیہ کی مخالفت پر اپنی طاقت کو حرکت میں لایا مگر کامیاب نہ ہو سکا۔ اس کی فرمانروائی کا گھمنڈ سلطان شہاب الدین غوری کی فوجوں کے ہاتھوں خاک میں مل گیا۔ ہندوستان میں ایک چھوٹی سی اسلامی حکومت قائم ہو گئی۔ بعد میں رفتہ رفتہ سارا ملک اسلام کے زیر نگیں آ گیا اور تقریبا 7 صدی تک مسلمان بادشاہ اس ملک پر حکومت کرتے رہے۔

  حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ جس وقت ہندوستان تشریف لائے۔ اس وقت ارواح پر موت کی سی کیفیت طاری تھی دلوں میں شکستگی تھی ۔ جسم گناہوں کے بوجھ سے دبے ہوئے تھے۔ چھوت چھات اور ذات کی اونچ نیچ سے انسانوں کو بہائم کے درجہ پر پہنچا دیا تھا۔ چار بڑی ذاتوں کے علاوہ دوسری ذاتوں کو بڑی ذاتوں کے ساتھ تو کجا درجہ انسانیت تک حاصل نہ تھا۔ روحیں تڑپ رہی تھیں۔ دل بے قرار تھے ۔ حضرت خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ کی تشریف آوری سے اس ملک پر باران رحمت برسی تڑپتی روحوں اور بے قرار دلوں کیلئے سامان راحت میسر ہوا۔ رحمت اور برکت کے دریا بہنے لگے۔ فیضان معرفت کے چشمے پھوٹ پڑے۔ ہدایت اور رہنمائی کی شمعیں روشن ہو گئیں۔ ہندوستان کی خشک وادی سبزہ زار بن گئی۔ پیاسے سیراب ہو گئے ۔ ظلمت کا فور ہو گئی۔ اب اجمیر پرتھوی راج کے زمانہ کا اجمیر نہ تھا۔ اجمیر اسلام کی سادگی کا منظر تھا۔ جہاں دن رات قرآن پاک کی تلاوت ہوتی تھی۔ جہاں راتیں ہو حق کے نعروں سے گونجتی رہتی تھیں۔ جہاں پوری پوری رات عبادت ذکر اور تلاوت کلام الہی میں بسر ہوتی تھی ۔ جہاں اونچ نیچ کا کوئی سوال نہ تھا۔ ہر اونچ نیچ کے ساتھ یکساں برتاؤ کیا جاتا تھا۔ جہاں شب و روز و شب ارشادات رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چرچے رہتے تھے ۔ جہاں اصحاب صفہ کے نمونے کے لوگ ڈھالے جاتے تھے ۔ جہاں استغنا اور ماسوی اللہ سے بے پروائی کا یہ عالم تھا کہ سلاطین ۔ امراء جاگیر دار بڑے بڑے نذرانے پیش کرتے تھے جو پائے حقارت سے ٹھکرا دیے جاتے تھے۔


حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ نبی یا رسول نہ تھے مگر ان کا پر تو یا عکس ضرورت تھے۔ ان کے اخلاق اخلاق رسول تھے۔ ان کی زندگی حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا نمونہ تھی۔ ان کے اعمال میں اعمال رسول کی جھلک تھی وارث علوم نبوت و تعلیمات رسالت تھے۔ نائب رسول اللہ تھے۔

        نائب مصطفی دریں کشور

    فخر پیغمبراں معین الدین مینی


حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ نے محبت و اخلاق کی تلوار سے ہندوستان فتح کیا۔ حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی محبت و اخلاق کی تلوار سے عرب کی سرزمین کو مسخر کیا تھا۔ حضور سرور کائنات نے اعلائے کلمتہ اللہ کیلئے اپنا تن من قربان کر دیا تھا۔ سرکار غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ نے بھی اپنا تن من اشاعت دین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں قربان کر دیا۔ حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کے گرم ریت اور پتھروں کو طے کر کے مدینہ آباد کیا تھا۔ سرکار غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ نے بھی ہزارہا میل کوہستان اور ریگستان طے کر کے اجمیر کو دم قدم سے برکت بخشی۔ سرکار غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ نے اس ملک میں آکر دین کی وہ خدمت انجام دی۔ جو در حقیقت نبی کے درجہ اور مقام کا آدمی ہی انجام دے سکتا ہے۔


#hindustan #history #khajagaribnawaz #hindustankihistory 

Saturday, December 10, 2022

मिस्वाक की फ़ज़ीलत और उसके फ़ायदें | ह़दीसे पाक

 मिस्वाक की फ़ज़ीलत और उसके फ़ायदें 

ह़दीस न. 1  :- तबरानी बइसनादे ह़सन हज़रते अली रद़ियल्लाहु तआ़ला अ़न्हु से रावी हुज़ूर सल्लल्लाहु तआ़ला अ़लैहि वसल्लम ने फ़रमाया कि अगर यह बात न होती कि मेरी उम्मत पर शाक़ (भारी) होगा तो मैं उनको वुज़ू के साथ मिस्वाक करने का हुक्म फरमा देता (यानी फर्ज़ कर देता और कुछ रिवायतों में फ़र्ज़ का लफ्ज़ भी आया है)

मिस्वाक की फ़ज़ीलत और उसके फ़ायदें ऑडियो  On YouTube 

ह़दीस न. 2 :- इसी तबरानी की एक रिवायत में है कि सय्यदे आ़लम सल्लल्लाहु तआ़ला अ़लैहि वसल्लम उस वक़्त तक किसी नमाज़ के लिये तशरीफ़ न ले जाते जब तक कि मिस्वाक न कर लेते। 
हदीस न. 3 :- सही मुस्लिम शरीफ़ में हज़रते आइशा सिद्दीक़ा रद़ियल्लाहु तआ़ला अ़न्हा से रिवायत है कि हुज़ूर बाहर से जब घर में तशरीफ़ लाते तो सबसे पहला काम मिस्वाक करना होता ।
हदीस न. 4 :- इमाम अह़मद हज़रते इब्ने उ़मर रद़ियल्लाहु तआ़ला अ़न्हुमा से रिवायत करते हैं कि हुज़ूर सल्लल्लाहु तआ़ला अ़लैहि वसल्लम ने फ़रमाया कि मिस्वाक का इन्तिज़ाम रखो कि वह सबब है मुँह की सफ़ाई और रब तबारक व तआ़ला की रज़ा का। 

मुस्लमानों की पहली राजनितिक  | दीनी मालूमात 

हदीस न. 5 :- अबू नई़म हज़रते जाबिर रद़ियल्लाहु तआ़ला अ़न्हु से रावी हैं कि रसूलुल्लाह स़ल्लल्लाहु तआ़ला अ़लैहि वसल्लम ने फ़रमाया कि दो रकअतें जो मिस्वाक करके पढ़ी जायें बे मिस्वाक की सत्तर 70 रकअतों से अफ़ज़ल हैं। 
हदीस न. 6 :- एक और रिवायत में है कि जो नमाज़ मिस्वाक करके पढ़ी जाये वह उस नमाज़ से सत्तर हिस्से अफ़ज़ल है जो बिना मिस्वाक के पढ़ी जाये।

मस अला :- मिस्वाक दाहिने हाथ से करना चाहिये और मिस्वाक इस तरह हाथ में ली जाये कि छंगुलिया मिस्वाक के नीचे और बीच की तीन उंगलियां ऊपर और अंगूठा सिरे पर नीचे हो और मुट्ठी न बंधे। मसअला : दौतों की चौड़ाई में मिस्वाक करे लम्बाई में नहीं चित लेट कर मिस्वाक न करें मसअला :- पहले दाहिने जानिब के ऊपर के दाँत मांझे फिर बाई जानिब के ऊपर के दांत फिर दाहिनी तरफ के नीचे के दाँत और फिर बाई तरफ के नीचे के।
मसअला :- जब मिस्वाक करना हो तो उसे धो लें और मिस्वाक करने के बाद भी उसे धो डालें, ज़मीन पर पड़ी न छोड़े बल्कि खड़ी रखे और उसे इस तरह खड़ी रखे कि उसके रेशे वाला हिस्सा ऊपर रहे। मसअला :- अगर मिस्वाक न हो तो उंगली या सख़्त कपड़े से दाँत मांझ ले यूँही अगर दाँत न हों तो उंगली या सख़्त कपड़ा मसूढ़ों पर फेर ले। मसअला :- मिस्वाक नमाज़ के लिये सुन्नत नहीं बल्कि वुज़ू के लिये है तो जो आदमी एक वुज़ू से चन्द नमाज़ें पढ़े उससे हर नमाज़ के लिये उस वक़्त तक मिस्वाक का मुतालबा नहीं जब तक मुँह की बू न बदल जाये, नहीं तो मुँह की बू दूर करने के लिये मुस्तकिल सुन्नत है अगर वुज़ू में मिस्वाक न की थी तो नमाज़ के वक़्त कर लें | 

مسواک کی فضیلت اور اس کے فاںٔدے

#miswakkifazilat #dinimalumat #mtrmanzari #مسواک-کی-فضیلت #मिस्वाक-की-फ़ज़ीलत 



Saturday, October 29, 2022

داغ فرقت طیبہ قلب مضمحل جاتا ، Dage Furqate Taiba Qalb Muzmahil Jaata , Hindi , Urdu , English

Urdu, English, Hindi, Dage Furqate Taiba Qalb Muzmahil Jata  

हुज़ूर ताजुश्शरीआ अलैहिर्रहमा का लिखा हुआ मक़बूल कलाम , उर्दू , इंग्लिश , हिंदी , 

दाग़े फुरक़ते तैबा क़ल्ब मुज़मह़िल जाता,

  Urdu , English , Hindi 

    Urdu 👇🏻

داغِ فرقت طیبہ قلب مضمحل جاتا
کاش گنبد خضریٰ دیکھنے کو مل جاتا

میرا دم نکل جاتا ان کے آستانے پر
ان کے آستانے کی خاک میں میں مل جاتا

میرے دل سے دھل جاتا داغِ فرقت طیبہ
طیبہ میں فنا ہو کر طیبہ میں ہی مل جاتا

موت لے کے آجاتی زندگی مدینے میں
موت سے گلے مل کر زندگی میں مل جاتا

خلد زارِ طیبہ کا اس طرح سفر ہوتا
پیچھے پیچھے سر جاتا آگے آگے دل جاتا


دل پہ جب کرن پڑتی ان کے سبز گنبد کی
اس کی سبز رنگت سے باغ بن کے کھل جاتا

فرقت مدینہ نے وہ دیئے مجھے صدمے
کوہ پر اگر پڑتے کوہ بھی تو ہل جاتا


دل مرا بچھا ہوتا ان کی رہ گزاروں میں
ان کے نقش پا سے یوں مل کے مستقل جاتا


دل پہ وہ قدم رکھتے نقش پا یہ دل بنتا
یا تو خاک پا بن کر پا سے متصل جاتا


وہ خرام فرماتے میرے دیدہ و دل پر
دیدہ میں فدا کرتا صدقے میرا دل جاتا


چشم تر وہاں بہتی دل کا مدعا کہتی
آہ با ادب رہتی مونھ میرا سل جاتا


در پہ دل جھکا ہوتا اذن پاکے پھر بڑھتا
ہر گناہ یاد آتا دل خجِل خجِل جاتا


میرے دل میں بس جاتا جلوہ زار طیبہ کا
داغِ فرقت طیبہ پھول بن کے کھل جاتا


ان کے در پہ اخترؔ کی حسرتیں ہوئیں پوری
سائل درِ اقدس کیسے منفعل جاتا
  

 English 👇🏻

Daagh e Furqat e Taibaa Qalb e Muzmahil Jaata
Kaash Gumbad e Khazraa Daikhnai Ko Mil Jaata

Mera Dam Nikal Jaata Unn Kai Astaanai Par
Unn Kai Astaanai Ki Khaak Mai Main Mil Jaata

Mere Dil Se Dhul Jaata Daagh e Furqat e Taibaa
Taibaa Mai Fanaa Ho Kar Taibaa Mai Hi Mil Jaata

Maut Lai Kai A Jaati Zindagi Madine Main
Maut Se Galay Mil Kar Zindagi Main Mil Jaata

Khuld Zaar e Taibaa Ka Iss Tarah Safar Hotaa
Pichay Pichay Sar Jaata Agai Agai Dil Jaata

Dil Pai Jab Kiran Parrti Unn Kai Sabz Gumbad Ki
Uss Ki Sabz Rungat Se Baagh Ban Kai Khil Jaata

Furqat e Madinaa Nai Woh Diye Mujhe Sadmai
Kouh Par Agar Parrtai Kouh Bhi Tou Hil Jaata

Dil Mera Bichaa Hota Unn Ki Reh Guzaaroun Mai
Unn Kai Naqsh e Paa Se Yun Mil Kai Mustaqill Jaata

Dil Pai Woh Qadam Rakhtai Naqsh e Paa Yai Dil Bantaa
Yaa Tou Khaak e Paa Ban Kar Paa Se Muttasil Jaata

Woh Khiraam Farmaatai Mere Didah o Dil Par
Didah Mai Fidaa Karta Sadqai Mera Dil Jaata

Chashm e Tar Wahan Behti Dil Ka Mudda'aa Kehti
Ah Baa Adab Rehti Mounh Mera Sil Jaata

Dar Pai Dil Jhuka Hotaa Izn Paa Kai Phir Barrhta
Har Gunnah Yaad Ata Dil Khajil Khajil Jaata

Mere Dil Mai Bas Jaata Jalwaah Zaar Taibaa Ka
Daagh e Furqat e Taibaa Phul Ban Kai Khil Jaata

Unn Kai Dar Pai Akhtar Ki Hasratain Hoin Puri
Saa’il e Dar e Aqdas Kaysai Munfa'il Jaata

  Islami Maalumat On Videos 

   हिंदी 👇🏻

दाग़े फुरक़ते तैयबा क़ल्ब मुज़मह़िल जाता
 काश गुंबदे ख़ज़रा देखने को मिल जाता

 मेरा दम निकल जाता उन के आस्ताने पर
 उन के आस्ताने की ख़ाक मे मैं मिल जाता

 मेरे दिल से धूल जाता दाग़े फुरक़ते तैयबा
 तैयबा मे फना हो कर तैयबा मे ही मिल जाता

 मौत लेके आ जाती ज़िंदगी मदीने मे
 मौत से गले मिल कर ज़िंदगी मे मिल जाता

 ख़ुल्द ज़ारे तैयबा का इस तरह सफ़र होता
 पीछे पीछे सर जाता आगे आगे दिल जाता

 दिल पे जब किरण पड़ती उन के सब्ज़ गुम्बद की
 उस की सब्ज़ रंगत से बाग़ बन के खिल जाता

 फुरक़ते मदीना ने वो दिए मुझे सदमे
 कौह पर आगर पड़ते कौह भी तो हिल जात

 दिल मेरा बिछा होता उन की रह गुज़ारों मे
 उन के नक्शे पा से यूं मिल के मुस्तक़िल जाता

 दिल पे वो क़दम रखते नक्शे पा ये दिल बनता 
 या तो खाके पा बन कर पा से मुत्तसिल जाता

 वो ख़राम फरमाते मेरे दीदा वो दिल पर
 दीदा मैं फ़िदा कर्ता सदक़े मेरा दिल जाता 

 चश्मे तर वहां बहती दिल का मुद्दआ कहती
 आह बा अदब रहती मुंह मेरा सिल जात

 दर पै दिल झुका होता इज़न पा के फिर बढ़ता
 हर गुनाह याद अता दिल खजिल खजिल जात 

 मेरे दिल मे बस जाता जलवा ज़ारे तैयबा का
 दाग़े फुरक़ते तैयबा फूल बन के खिल जात

 उन के दर पै अख़्तर की हसरतें हुई पूरी
 साइल दरे अक़दस कैसे मुनफइल जाता 
           🌹  शुक्रिया 🌹
     Team @mtrmanzari
Dage Furqate Taiba Qalb Muzmahil Jata


حمد اور شکر کی تعریف

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ(1)  ترجمۂ کنز الایمان سب خوبیاں اللہ کو جو مالک سارے جہان والوں کا۔  تفسیر صراط الجنان {اَلْحَمْدُ ل...